لمحہِ فکریہ چولہے بجھے پڑے ہیں بچے بھوک سےمر رہے ہیں روٹی چاند سے بھی دور ہے نامُ نہاد شریعت کا پیٹ ہے کے بھرنے کا نام نہیں لے رہا۔ سیڑھی چڑھنے کا اصول پہلا دوسرا تیسرا اور پھر چوتھا ڈنڈا ہے لیکن یہاں مُلاں سے لے کر قاضی تک سب پہلے ہی قدم سےآخر پر پہچنا چاہتے ہیں جس ماں کے بچے بھوک سے تڑپ رہے ہوں اسے داتا کی بریانی چرچ کی روٹی گیارہویں کی نیاز بھگوان کے پرساد سے کوئی فرق نہیں پڑتا اسکے لئے اسکا دین مذہب دھرم سب روٹی ہے۔۔ جہاں تختی اور کتاب خریدنے کےلیے ایک گھر کو بھوکا سونا پڑے وہاں کیا شعور کیا لاشعور سب کچھ اسکے آگے تاریکی کی کھائی میں پڑا ہے ۔ معیشت اور تعلیم ہی کی طاقت شعور بیدار کرتی ہے ۔ ایسے تعفن زدہ معاشروں میں غریب کی جورو سب کی بھابھی اور امیر کی جورو سب کی سگی بہن ہوتی ہے ۔ دل دماغ کے سوچ کے سمجھ کے سارے را ستے پیٹ سے گذرتے ہیں جتنی تعلیم جتنی مضبوط معیشت اتنی زندگی آسان۔۔ ورنہ نہ روزہ صبر دے گا اور نہ عبادت اجر دے گی۔ قرآن کہتا صرف اپنی ضرورت کا رکھو باقی سب اپنے سے نیچے بانٹ دو۔یتیموں میں غریبوں میں رشتہ داروں می...
Comments
Post a Comment